ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میڈیکل کمیشن کامسودہ قانون خامیوں سے پراورنامکمل آیوش اور ایلیوپیتھی دونوں کو فروغ دینے ہیلتھ کیر پروائیڈزفیڈریشن کا مطالبہ

میڈیکل کمیشن کامسودہ قانون خامیوں سے پراورنامکمل آیوش اور ایلیوپیتھی دونوں کو فروغ دینے ہیلتھ کیر پروائیڈزفیڈریشن کا مطالبہ

Thu, 25 Jan 2018 12:20:34    S.O. News Service

بنگلورو،24؍جنوری(ایس او نیوز) شہر کے ماہرین طبیات نے کہاکہ نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) مسودہ قانون 2017ء ادھورا اور نامکمل ہے۔ ملک کے اندر صحت اور طبی تعلیم میں مکمل طریقہ سے تبدیلی لانی ہوتو اس مسودہ قانون میں چند خامیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ فیڈریشن آف ہیلتھ کیئر پروائیڈز انڈیا (اے ایچ پی آئی) کے صدر ڈاکٹر بی ایس اجئے کمار نے کہاکہ یہ سچ ہے کہ سابقہ چند غلطیوں کی وجہ سے ڈاکٹروں کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس نئے مسودہ قانون میں بدعنوانیوں کے لئے تمام دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آیوش اور ایلیوپیتھی علاج کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ اس مسودہ میں حکومت کی جانب سے نامزد ہونے والے عہدیداروں کی تعداد لگ بھگ 80؍فیصد ہوگی اور طبی شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی نمائندگی صرف 20؍فیصد ہے جو ایک طرح سے جمہوریت کے خلاف ہے۔ انہوں نے بتایاکہ میڈیکل کالجوں اور اس سے منسلک تعلیمی اداروں کے معیار کی جانچ اور منظوری دینے اور انتظامیہ پر کڑی نظر رکھنے کے لئے آزادانہ ادارے کا قیام عمل میں لانا ضروری ہے۔ اس ادارے کو خودمختار قراوردینے کی بھی ضرورت ہے۔ تاکہ اس ادارے سے سیاستدانوں اور طبی شعبہ کے عہدیداروں کو دور رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ اس ادارے میں ایسے افراد کو نامزد کرنے کی ضرورت ہے جو قانون کی جانکاری اور سماج سے جڑکر خدمات انجام دے رہے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ڈاکٹروں کی قلت ہے۔ عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کی جاری کردہ رپورٹ میں ملک میں صحت نظام کافی غیر معیاری ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش، سری لنکا، عراق، ایران جیسے پڑوسی ممالک سے بھی ہندوستان طبی شعبہ میں کافی پیچھے ہے۔ یہ نہایت شرم کی بات ہے۔ ڈاکٹر اجئے کمار نے کہاکہ آئندہ 5 سے 10؍برسوں تک ملک کو دنیا کا منفرد ملک کا مقام دلانا ہوتو این ایم سی مسودہ قانون میں کئی تبدیلیاں لانی ضروری ہیں۔ اے ایچ پی آئی کے بانی ڈاکٹر دیوی شٹی نے کہاکہ طبی تعلیم اور صحت کے تحفظ کے لئے کئے جارہے اقدامات میں کافی فرق ہے اور طبی شعبہ میں کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ ان چیلنجوں کا سامنا کرنے کے مقصد سے ہی اے ایچ پی آئی کام کررہاہے۔ انہوں نے بتایاکہ غریب اور مستحق افراد کو طبی سہولیات فراہم کروانی ہوتو این ایم سی مسودہ قانون میں ایم مکمل اور سخت قانون مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر وینکٹیش کرشنا مورتی نے کہاکہ حکومت کا ماننا ہے کہ میڈیکل کالجوں اور نجی اسپتالوں کے معیار کی جانچ اور غریب مریضوں کو کم قیمت پر بہتر علاج کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے ایم ایم سی مسودہ قانون جاری کیا جارہاہے۔ لیکن یہ مسودہ قانون کسی بھی طرح سے مکمل نہیں ہے اور اسے طبی شعبہ میں خدمت انجام دے رہے ڈاکٹر بھی قطعی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے میڈیکل کالجوں میں پروفیسرز کی قلت بھی ہونے لگی ہے۔ اس بات کو اہمیت دیتے ہوئے مرکز اور ریاستوں کی حکومتوں کوضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔


Share: